سپریم کورٹ نے استغاثہ کے کمزور شواہد کی وجہ سے قتل کے دو مجرموں کو بری کر دیا
سپریم کورٹ نے نکاسی آب کی بندش پر تنازعہ سے پیدا ہونے والے قتل اور ہتھیاروں سے متعلق جرائم کے لیے دو اپیل گزاروں کی سزا کا جائزہ لیا، بالآخر استغاثہ کے شواہد اور تحقیقات میں اہم شکوک و شبہات کی وجہ سے انہیں بری کر دیا۔
اپیل گزار: اشوک اپادھیائے اور دوسرا ؛ مدعا علیہ: ریاست بہار ؛ بنچ: جسٹس کے ونود چندران۔
- عدالت نے دونوں اپیل گزاروں کو بری کر دیا۔
- عدالت نے پایا کہ استغاثہ کے شواہد صرف جرم کے مفروضے کی طرف نہیں لے جاتے اور بے گناہی کا ایک معقول مفروضہ موجود ہے۔
- عدالت نے نوٹ کیا کہ عینی شاہدین بنیادی طور پر متوفی کے قریبی رشتہ دار تھے اور ان کی گواہی میں تضادات تھے۔
- عدالت نے مشاہدہ کیا کہ تحقیقات غیر موثر تھی، بشمول ہتھیاروں کی بازیابی، منظر کا نقشہ تیار کرنے، یا آتشیں اسلحہ کا لائسنس تیار کرنے میں ناکامی۔
- عدالت نے لاش کو ہسپتال کے بجائے پولیس اسٹیشن لے جانے کے مشکوک طرز عمل پر روشنی ڈالی، حالانکہ طبی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ متوفی 3 سے 6 گھنٹے تک زندہ رہ سکتا تھا۔
اے آئی کے ذریعے دستاویز سے لکھا گیا، اور اس کے خلاف چیک کیا گیا۔ نیچے اصل مستند ہے۔
اصل دستاویز
آرڈر کریں
2026-09-09
اس دستاویز کو دیکھنے کے لیے اوپر "پی ڈی ایف کھولیں" پر ٹیپ کریں۔
دستاویز کی تفصیلات
| سرکاری عنوان | لاش کو تھانے لے جانے کی استغاثہ کی کہانی مشکوک: سپریم کورٹ نے قتل کے دو مجرموں کو بری کر دیا |
| ماخذ جسم | سپریم کورٹ آف انڈیا-احکامات اور فیصلے |
| حوالہ نمبر | — |
| حیثیت | بند کر دیا (حکم) |
| سال | 2026 |
| اختتامی تاریخ | — |
| دستاویزات | 1 |