کیا نائب وزرائے اعلی کی تقرری غیر آئینی ہے؟ اڑیسہ ہائی کورٹ نے...
فراہم کردہ متن ہندوستان کے آئین کے ساتویں شیڈول کا ایک اقتباس ہے، جس میں خاص طور پر مرکزی فہرست (فہرست I) اور ریاستی فہرست (فہرست II) کے آغاز کی تفصیل دی گئی ہے، جو مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے قانون سازی کے اختیارات کی وضاحت کرتی ہے۔ اس میں عنوان میں مذکور نائب وزرائے اعلی کی تقرری سے متعلق عدالتی فیصلہ یا حکم شامل نہیں ہے۔
حکومت ہند (یونین)، ریاستی حکومتیں، اور شہری دفاع، امور خارجہ، ٹیکس اور امن عامہ جیسے معاملات پر قانون سازی کے اختیار کے دائرہ کار کے حوالے سے۔
- فہرست I (یونین لسٹ) میں دفاع، امور خارجہ، ریلوے، بینکنگ اور انکم ٹیکس کے لیے اندراجات شامل ہیں۔
- فہرست دوم (ریاستی فہرست) میں امن عامہ، پولیس اور جیلوں کے لیے اندراجات شامل ہیں۔
- متن میں وضاحت کی گئی ہے کہ کچھ معاملات، جیسے شہری طاقت کی مدد کے لیے مسلح افواج کی تعیناتی، یونین کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
- متن ان فہرستوں میں معاملات کے حوالے سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے دائرہ اختیار کا خاکہ پیش کرتا ہے۔
اے آئی کے ذریعے دستاویز سے لکھا گیا، اور اس کے خلاف چیک کیا گیا۔ نیچے اصل مستند ہے۔
اصل دستاویز
سرکاری دستاویز
اس دستاویز کو دیکھنے کے لیے اوپر "پی ڈی ایف کھولیں" پر ٹیپ کریں۔
دستاویز کی تفصیلات
| سرکاری عنوان | کیا نائب وزرائے اعلی کی تقرری غیر آئینی ہے؟ اڑیسہ ہائی کورٹ نے حکم محفوظ رکھا |
| ماخذ جسم | پریس کی جانب سے سرکاری دستاویزات سامنے آئیں |
| حوالہ نمبر | 1e3252d18bdc400d |
| حیثیت | بند کر دیا (گوو دستاویز (_ D) |
| سال | — |
| اختتامی تاریخ | — |
| دستاویزات | 1 |