پانچ ممالک نئی آب و ہوا کی شراکت داری میں شہری جوہری طاقت کے لیے پرعزم ہیں
یہ ایک وژن بیان ہے جس پر آسٹریلیا، چین، ہندوستان، جمہوریہ کوریا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے صاف ستھری ترقی اور آب و ہوا پر ایشیا پیسیفک کی نئی شراکت داری قائم کرنے کے لیے دستخط کیے ہیں۔ دونوں ممالک نے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے، آلودگی کو کم کرنے اور پائیدار ترقی کو فروغ دیتے ہوئے آب و ہوا کی تبدیلی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے تعاون بڑھانے کا عہد کیا ہے۔
اس معاہدے میں آسٹریلیا، چین، ہندوستان، جمہوریہ کوریا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حکومتیں شامل ہیں۔ اس کا تعلق توانائی کے شعبے سے ہے، جس میں صاف کوئلہ، جوہری توانائی، قابل تجدید توانائی (ہوا، شمسی، جیوتھرمل، ہائیڈرو)، بائیو انرجی، اور جدید نقل و حمل سے متعلق صنعتیں شامل ہیں۔ اس میں نجی شعبہ بھی شامل ہے اور انسانی اور ادارہ جاتی صلاحیت سازی پر توجہ مرکوز ہے۔
- صاف ستھری، زیادہ موثر ٹیکنالوجیز کی ترقی، تعیناتی اور منتقلی کا عزم۔
- توانائی کی کارکردگی، صاف کوئلہ، کاربن کیپچر اور اسٹوریج، سویلین نیوکلیئر پاور، اور مختلف قابل تجدید توانائی کے ذرائع سمیت قلیل مدتی شعبوں پر تعاون۔
- ہائیڈروجن، نینو ٹیکنالوجیز اور فیوژن انرجی جیسی درمیانی سے طویل مدتی تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجیز پر تعاون۔
- نفاذ کے طریقوں، ادارہ جاتی انتظامات اور مالی انتظامات کی وضاحت کے لیے ایک غیر پابند معاہدہ تیار کرنا۔
- تاثیر کو یقینی بنانے کے لیے شراکت داری کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔
- موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) کے ساتھ مطابقت اور کیوٹو پروٹوکول کی تکمیل، لیکن اس کی جگہ نہیں لینا۔
اے آئی کے ذریعے دستاویز سے لکھا گیا، اور اس کے خلاف چیک کیا گیا۔ نیچے اصل مستند ہے۔
اصل دستاویز
دستاویز کی تفصیلات
| سرکاری عنوان | صاف ستھری ترقی اور آب و ہوا پر نئی ایشیا پیسیفک شراکت داری کے لیے آسٹریلیا، چین، ہندوستان، جمہوریہ کوریا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کا ویژن بیان |
| ماخذ جسم | وزارت خارجہ-دو طرفہ اور تجارتی دستاویزات |
| حوالہ نمبر | 6833 |
| حیثیت | بند کر دیا (معاہدہ) |
| سال | 2005 |
| اختتامی تاریخ | 28 جولائی، 2005 |
| دستاویزات | 1 |