ہنگری نے ہندوستان کی این ایس جی رکنیت کی حمایت کی، مشترکہ بیان میں کہا گیا
اس مشترکہ بیان میں جولائی 2016 میں ہندوستان کے دورے کے دوران ہندوستان اور ہنگری کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کو درج کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے اعلی سطحی تبادلے جاری رکھنے اور تجارت، سرمایہ کاری، سائنس، ٹیکنالوجی، دفاع، ثقافت اور سیاحت سمیت شعبوں میں تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔
اس معاہدے میں ہندوستان اور ہنگری شامل ہیں۔ اس میں خاص طور پر وزارت خارجہ (ہندوستان)، وزارت خارجہ و تجارت (ہنگری)، وزارت تجارت و صنعت (ہندوستان)، اور وزارت ارضیاتی علوم، سائنس و ٹیکنالوجی (ہندوستان) کا ذکر ہے۔ متاثرہ شعبوں میں تجارت، سرمایہ کاری، سائنس، ٹیکنالوجی، دفاع، ثقافت اور سیاحت شامل ہیں۔
- دونوں ممالک کے درمیان اعلی سطح کے تبادلے جاری رکھنے کا معاہدہ۔
- تجارت، سرمایہ کاری، سائنس، ٹیکنالوجی، دفاع، ثقافت اور سیاحت میں تعاون کا عزم۔
- ہنگری نے 27 جون 2016 کو میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول ریجیم (ایم ٹی سی آر) میں ہندوستان کے شامل ہونے کا خیرمقدم کیا۔
- ہندوستان نے ایم ٹی سی آر اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں ہندوستان کی رکنیت کے لیے ہنگری کا شکریہ ادا کیا۔
- دونوں وزرا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا، جس میں مستقل اور غیر مستقل زمروں میں توسیع شامل ہے۔
- دونوں وزرا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ذریعے بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق جامع کنونشن کے مسودے کو جلد سے جلد اپنانے پر زور دیا۔
- ہندوستان نے ہنگری کی جلد توثیق کا خیرمقدم کرتے ہوئے پیرس موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے کی توثیق کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
- ایک متوازن ہندوستان-یورپی یونین وسیع البنیاد دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدے کے لیے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت کی تصدیق۔
اے آئی کے ذریعے دستاویز سے لکھا گیا، اور اس کے خلاف چیک کیا گیا۔ نیچے اصل مستند ہے۔
اصل دستاویز
دستاویز کی تفصیلات
| سرکاری عنوان | ہنگری کے امور خارجہ اور تجارت کے وزیر کے ہندوستان کے دورے کے دوران ہندوستان-ہنگری کا مشترکہ بیان |
| ماخذ جسم | وزارت خارجہ-دو طرفہ اور تجارتی دستاویزات |
| حوالہ نمبر | 26986 |
| حیثیت | بند کر دیا (معاہدہ) |
| سال | 2016 |
| اختتامی تاریخ | 05 جولائی، 2016 |
| دستاویزات | 1 |