تلنگانہ کو جنگلی حیات کے تنازعات کے انتظام کے لیے ₹3 لاکھ، ₹4 لاکھ، ₹2 لاکھ، ₹1 لاکھ ملے
سوال میں ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت سے کہا گیا کہ وہ گزشتہ تین سالوں اور رواں سال کے دوران تلنگانہ میں مرکزی مالی امداد، تنازعات کے واقعات کا جائزہ، اور انسانی اور جانوروں کے تنازعات کے معاوضے کے اعداد و شمار کی تفصیلات فراہم کرے۔
جناب سریش کمار شیتکر نے پوچھا ؛ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت (وزیر جناب بھوپیندر یادو) نے جواب دیا۔
- انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ آف وائلڈ لائف ہیبی ٹیٹس اسکیم کے تحت تلنگانہ کو بالترتیب مالی سال 2023-24، 2024-25، 2025-26، اور 2026-27 کے لیے 323.32 لاکھ روپے، 291.68 لاکھ روپے، 302.34 لاکھ روپے، اور 208.67 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔
- سپورٹ میں ابتدائی انتباہی نظام، جسمانی رکاوٹیں (شمسی برقی باڑ، بائیو باڑ، خندق)، اور ریپڈ رسپانس ٹیمیں شامل ہیں۔
- پچھلی دہائی میں تلنگانہ میں ہاتھیوں کی وجہ سے کوئی انسانی موت نہیں ہوئی اور شیروں کے حملوں سے صرف 3 انسانی اموات ہوئیں۔
- دسمبر 2023 میں موت یا مستقل معذوری کے لیے معاوضے کی رقم 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی۔
- شدید چوٹ کے لیے معاوضے کی رقم 2 لاکھ روپے ہے، اور معمولی چوٹ کے لیے علاج پر فی شخص 25, 000 روپے تک کا خرچ آتا ہے۔
- سیکون، ڈبلیو آئی آئی-ساؤتھ انڈیا سینٹر، کوئمبٹور میں انسانی-جنگلی حیات کے تنازعات کے انتظام کے لیے ایک سینٹر آف ایکسی لینس قائم کیا گیا تھا۔
اے آئی کے ذریعے دستاویز سے لکھا گیا، اور اس کے خلاف چیک کیا گیا۔ نیچے اصل مستند ہے۔
اصل دستاویز
پارلیمانی سوال و جواب
20.07.2026
اس دستاویز کو دیکھنے کے لیے اوپر "پی ڈی ایف کھولیں" پر ٹیپ کریں۔
دستاویز کی تفصیلات
| سرکاری عنوان | تلنگانہ میں انسانی اور جانوروں کا تنازعہ |
| ماخذ جسم | پارلیمنٹ آف انڈیا-سوالات اور جوابات (لوک سبھا، ستارہ) |
| حوالہ نمبر | ایل ایس کیو 16 (سیشن 8) |
| حیثیت | بند کر دیا (سوال) |
| سال | 20.0 |
| اختتامی تاریخ | — |
| دستاویزات | 1 |